1 جنوری، 2018، 5:16 PM

یونان میں پیک غذاؤں میں تیزاب ملانے کی خبروں سے عوام میں خوف و ہراس

یونان میں پیک غذاؤں میں تیزاب ملانے کی خبروں سے عوام میں خوف و ہراس

یونان میں ماحولیاتی دہشت گردوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے سپر اسٹور کی غذاؤں اور مشروبات میں انجکش کے ذریعہ تیزاب داخل کردیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے غیر ملکی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ یونان میں ماحولیاتی دہشت گردوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے سپر اسٹور کی غذاؤں اور مشروبات میں انجکش کے ذریعہ تیزاب داخل کردیا ہے۔ ایتھنز اور تھیسالونکی کے شہریوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ ڈبہ بند گوشت، مقامی طور پر تیار کردہ دودھ کے ڈبے اور کولڈ ڈرنک نہ خریدیں کیونکہ ان میں تیزاب اور دیگر خطرناک اجزاء ہوسکتے ہیں۔ اب تک اس اقدام سے دونوں شہروں کے 10 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔ ادھر سیاسی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ یہ دہشت گردی کا ایک فعل ہے اور ایسا کرنے والے سیاسی کارکن نہیں بلکہ مجرم ہیں۔ افراتفری پھیلانے والوں کا ایک گروپ خود کو ’بلیک گرین آرسونسٹس‘ کہتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ کرسمس پر زندگی سے خالی لاکھوں افراد کو یہ کمپنیاں اپنا کوڑا کرکٹ دیدہ زیب پیکنگ میں بند کرکے فروخت کرتی ہیں تاکہ لوگوں کے جسم سے خون کا ایک ایک قطرہ نچوڑ لیا جائے۔ اس گروپ کا کہنا ہے کہ انہوں نے مخصوص اشیا کا انتخاب کیا ہے جن میں کوکا کولا اور کوکا لائٹ کی ڈیڑھ لیٹر بوتل، یفانٹس گوشت کے پیکٹ اور ڈیلٹا دودھ کے ڈبے شامل ہیں۔ گروپ نے کہا ہے کہ اس نے 20 دسمبر کو کئی اسٹور سے یہ اشیا خریدیں اور ان میں تیزابی ٹیکے لگاکر انہیں 24 دسمبر کو واپس کردیا اور اب یہ اسٹور کے شیلفوں میں رکھی ہیں۔

شرپسند گروپوں نے کہا ہے کہ انہوں نے مشروبات میں ہائیڈرو کلورک ایسڈ شامل کیا ہے جو بے رنگ اور بے بو مائع ہے اور یہ تیزاب صنعتوں میں استعمال ہوتا ہے اگر یہ پیٹ میں چلا جائے تو گلے کا شدید درد، خون کی الٹیاں اور موت بھی واقع ہوسکتی ہیں۔

News ID 1877745

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha